مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ٹرمپ حکومت کی کارکردگی کو کامیاب ظاہر کرنے اور ایران کے خلاف ٹرمپ کی مہنگی جارحیت کے نتیجے میں امریکہ کو درپیش بعض اقتصادی مشکلات کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 23 ستمبر سے ایران کی تمام فضائی کمپنیوں کی سرگرمیاں بند ہو جائیں گی۔
امریکی وزیرِ خزانہ نے اس اقدام کی وجہ ایران کی فضائی کمپنیوں کو ہوا بازی کی خدمات فراہم کرنے والوں پر عائد ثانوی پابندیوں کے خطرے کو قرار دیا۔
اسکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت کے خلاف امریکہ کی اقتصادی دباؤ کی مہم میں چینی حکام بھی ’’شدت سے ملوث‘‘ ہیں۔
انہوں نے ماضی میں امریکی حکام کی جانب سے کیے گئے ایران مخالف دعوؤں کو دہراتے ہوئے کہا کہ جو بھی ہوائی اڈہ ایرانی طیاروں کو ایندھن فراہم کرے گا، انہیں لینڈنگ کی سہولت دے گا یا ان کے لیے ٹکٹ فروخت کرے گا، اسے ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کیے جانے کا خطرہ ہوگا۔
بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی پاسداری کے حوالے سے چین کے مالیاتی حکام، بشمول اس ملک کے مرکزی بینک کے سربراہ پان گونگشنگ کے ساتھ تعمیری مذاکرات کر رہا ہے۔
واضح رہے چین اس سے قبل امریکہ کی ’’یک طرفہ‘‘ پابندیوں کو سختی سے مسترد کر چکا ہے اور طویل عرصے سے ایران اور روس جیسے اپنے شراکت داروں کے ساتھ معمول کی تجارت کے حق کا دفاع کرتا آیا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ منگل کو امریکی وزیرِ خزانہ کی پریس کانفرنس کے بعد چینی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ وہ امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے مقابلے میں اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بھی کہا کہ اقتصادی جنگ اور زیادہ سے زیادہ دباؤ اس مسئلے کے حل میں کوئی مدد نہیں دیں گے، بلکہ اس سے کشیدگی اور تنازعات میں اضافہ، بحران کے پھیلاؤ کے خطرات اور عالمی اقتصادی و مالیاتی نظام میں خلل پیدا ہوگا۔
آپ کا تبصرہ